ملک یا خطے کی جانب سے اپنے شہریوں اور ماحولیات خصوصاً سمندروں کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے دوررس ترقی حاصل کرنا بلواکانومی کی بنیاد ہے۔ بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے سمندروں اور اُن کے وسائل کے استعمال پر زور دیاجائے ,بلواکانومی سے مرادبحری معاشی سر گرمیوں اور ان سے حاصل کی جانے والی ترقی کو ماحولیات کی تباہ کاریوں کا باعث نہ بننے دینا اور سمندری ذخائر سے زیادہ سے زیادہ فوائد حاصل کرنا ہے۔ کسی ملک یا خطے کی جانب سے اپنے شہریوں اور ماحولیات خصوصاً سمندروں کی بہتری کو مدنظر رکھتے ہوئے دوررس ترقی حاصل کرنا بلواکانومی کی بنیاد ہے۔بلو اکانومی اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے سمندروں اور اُن کے وسائل کے استعمال پر زور دیاجائے۔




پاکستان میں یہ تصور نیا ہے اور اس کی بنیادی وجہ یہ  کہ پاکستان ہمیشہ سے سمندر کے حوالے سے لاعلمی کا شکار رہا  اس سے مراد  کہ پاکستان میں نہ اسٹرٹیجک سیکیورٹی اور معاشی ترقی کے لیے بحری طاقت کے منافع بخش استعمال کو سمجھا گیا اور نہ ہی اس کے لیے کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا گیا۔

بحری صنعت میں تعمیرات، ذرائع نقل و حمل، قدرتی ذخائر کی کشیدگی، جہاز سازی، مواصلاتی تاریں بچھانا، ادویہ سازی، لہروں کے بہاؤ سے بجلی پیدا کرنا، سیاحت، فشریز اور آبی زراعت وہ صنعتی سرگرمیاں ہیں جن سے معیشت کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ روایتی بحری ترقی کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ،بحری انفارمیشن اینڈ سائنس سیکٹر بھی بلواکانومی سے ہونے والی ترقی کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔
بلواکانومی کو اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے مقاصد سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور اس کے لیے سمندر اور بحری ذخائر کا استعمال پائیدار بنیادوں پر کیا جاناچاہیے۔ بنیادی طور پر معاشی و معاشرتی ترقی اور ذخائر وماحولیات کے درمیان ایک مسلسل متوازن رشتہ قائم کرنا ہے۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہوسکتا ہے جب اس سے جُڑی لاعلمی کو ختم کیا جائے۔ پاکستان میں اس کی مثال سمندروں کے حوالے سے سائنسی تحقیق پر مبنی ترقی کا نہ ہونا اور سمندروں کو قومی اثاثہ سمجھتے ہوئے اُن کے حوالے سے کام نہ کرنا ہے۔
   سمندر کے حوالے سے لاعلمی کئی پالیسی فیصلوں پر بھی اثرانداز ہوتی ہے جیسا کہ حکومت کی جانب سے نیوی اور قومی بحری پالیسی کے لیے مناسب فنڈز نہ دے کر سمندروں کی اہمیت کو نظرانداز کردینا۔ اسی طرح سے دیگر وجوہات میں اداروں کے درمیان سمندروں اور اُن سے حاصل کردہ معاشی فوائد کے حوالے سے کسی مشترکہ لائحہ عمل کا فقدان بھی اس کی ایک مثال ہے۔
اور مزید ستم ظریفی یہ کہ اس حوالے سے معاشی فوائد کے بجائے سمندروں کو لاحق ماحولیاتی خطرات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔
ہماری عوام کے ذہنوں میں بھی زمین کے گرد گھومتی سوچ ہی ہمیشہ سے پروان چڑھائی گئی ہے۔ بحری صنعت کی ترویج کے لیے کسی پالیسی کا نہ ہونا پاکستان کے پالیسی سازوں میں بحری استعداد سے ناواقفیت کامنہ بولتا ثبوت ہے اور آنے والی دہائیوں میں ہمیں اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔
سمندر کے حوالے سے لاعلمی ختم کرنے کے لیے بھی پاک بحریہ نے آگاہی مہمات کا آغاز کیا ہے۔اس سلسلے میں پاک بحریہ کی جانب سے منعقد کی جانے والی میری ٹائم سیکیورٹی ورکشاپ"MARSEW"قابلِ ذکر ہے۔ یہ ورکشاپ  2017 سے باقاعدگی سے سالانہ بنیادوں پر منعقد کی جاتی ہے جس کا مقصد قومی پالیسی سازوں کو بحری امور کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے۔ اس ورکشاپ میں سیاست. بیوروکریسی.میڈیا. سول سوسائٹی اور فوج کے ممبران شریک ہوتے ہیں۔
پاکستان کی بحری فوج طاقت کے مظاہرے کے سفارتی مشن بھی موثر طور پر سر انجام دے رہی ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے قابلِ اعتبار اور مشترکہ لائحہ عمل پر عمل درآمدبھی کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ، پاک بحریہ سمندروں کے حوالے سے لاعلمی کم کرنے کے لیے اسکالز اور تعلیمی شعبے سے تعلق رکھنے والے دیگر افراد کو پاک بحریہ کی مختلف تقریبات میں مدعو بھی کرتی ہے۔